خادم حسین رضوی کی "گالیاں" اور سیاست
:::::: خادم حسین رضوی کی "گالیاں" اور سیاست
:::::
☆ قاصد نامہ ☆ :::::: خادم حسین رضوی کی "گالیاں" اور سیاست ::::::
علامہ خادم حسین رضوی کا سیاست میں آنا نہ تو روایتی ہے، نہ ہی پری پلانڈ ہے، بلکہ ان کا سیاست میں آنا بالکل ایسا ہی ہے، جیسے سپاہِ صحابہ ایرانی انقلاب کو پاکستان میں برآمد کرنے کی کوششوں کے ردِعمل میں بنی، ہمارے بہت سے دوستوں کو خادم حسین رضوی سے ایک شکایت سب سے زیادہ ہے کہ وہ "گالیاں" دیتا ہے، اب ان "گالیوں" کی حقیقت دیکھیں تو کل ملا کر ایک ویڈیو ہے، جس میں خادم رضوی صاحب طاہرالقادری کو "کمینہ، دلّا ، پادری، رذیل اور ذلیل" کہتے ہیں، اس کے علاوہ خادم رضوی کی زبان سے نہ کبھی ماں بہن کی گالی نکلی ہے، نہ کوئی ایسا لفظ کہ جسے حقیقی معنوں میں گالی کہا جاسکے، کیونکہ خبیث، رذیل، ذلیل، کمینہ، وغیرہ وہ الفاظ ہیں جو پاکستانی معاشرے میں بلکہ گھروں میں بھی عام ہیں، دوسری بات یہ کہ خاکم بدہن اس بات میں جھوٹ نہیں کہ عصری اور دینی تعلیمی اداروں میں بھی ان الفاظ کے استعمال کا معمول عام ہے، یہ میڈیا پہ بیٹھ کر جتنے دانشور زبان درازیاں کرتے ہیں، سیاستدان جیسی گھٹیا گفتگو کرتے ہیں، ویسے گفتگو کوقادر کر دکھائے کہ خادم رضوی نے یہ گفتگو کی، بھائیو ! طاہرالقادری کیلئے بھی ان الفاظ کا استعمال تب کیا گیا، جب خادم صاحب اور پیروکار ممتاز قادریؒ کا تازہ تازہ زخم کھائے ہوئے تھے، اوپر سے طاہرالقادری صاحب نے ممتاز قادریؒ کی پھانسی کو درست، آئینی اور خوش آئند قرار دیا، جس کے بعد اتنا تو کہنا بنتا تھا کہ جو کمی کمینہ زندگی بھر حضورﷺ کے نام کا ٹکڑا کھاتا رہا، وہ کینیڈا کی شہریت پانے کے بعد حضورﷺ کی عزت پہ پہرہ دینے والے کو قاتل اور مجرم کہتا ہو، باقی لفظ "دلّا" دراصل "دلال" ہے، دلال کو اگر "مہذب" انداز میں کہیں تو ایجنٹ ہوگا، اب طاہرالقادری کو کس پاکستانی نے ایجنٹ، پادری، اور جعلی ملا اور نہ جانے کیا کیا خطابات نہیں دئیے۔۔۔۔؟؟
اب خادم رضوی کی سیاست میں انٹری پر بہت سے دوستوں کو جب کوئی بات نہ ملی تو یہی ٹھٹھہ اڑاتے ہیں کہ گالیاں دیتا ہے، جناب ! جنہوں نے گالی گالی کی رٹ لگا رکھی ہے، ان میں سے اکثریت کا اخلاقی معیار دیکھا جائے تو کانوں کو ہاتھ لگائے جائیں، میں اس پر ایک کھلا اور واضح سا تبصرہ کرچکا تھا فیض اللہ خان کی پوسٹ پر، لیکن یہاں چونکہ لکھنا مناسب نہیں سمجھتا، مختصر یہ کہ کچھ ایسے بھی دانشور فیس بک پر پائے جاتے ہیں، جن سے ان کی بیویاں تنگ ہیں کہ ان کی اخلاقیات کا معیار بیوی کے سامنے بھی نہایت گھٹیا ہے، وہ بھی مزے لے لے کر خادم رضوی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "گالیاں دینے والا مولوی ہے" ، صاحب ! پہلے بیوی کے سامنے تو عزت بنا لو ! گرمی اور سردی میں استنجاء کا مسنون طریقہ بھی جسے معلوم نہ ہو، وہ اٹھ کر کہے کہ خادم رضوی ایسا ویسا۔۔۔۔
دوستو ! اختلاف کریں، ڈٹ کر کریں، لیکن اخلاق اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر، اختلاف کریں مگر دلیل کے ساتھ، لیکن اگر آپ کو لگتا ہے کہ خادم رضوی کا مذاق اڑا کر آپ اس کی عوامی مقبولیت کم کریں گے تو یہ ممکن نہیں ہے، میں ایک حقیقت پسند شخص ہوں، واللہ مجھے اس شخص سے صرف اسی لئے محبت ہے کہ حقیقت کہتا ہے اور بے خوف و خطر ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے، دونوں ٹانگوں سے معذور اس سفید ریش کے سامنے کم سن بیٹے کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا، بیٹیوں پر بندوقیں تانیں، اور باپردہ بیٹیوں کو دھمکیاں دیں، جن بیٹیوں کو اس معذور بابے نے عمر بھر سکول تک نہ بھیجا، گھر میں پڑھایا، یہ خادم رضوی بریلوی مکتب فکر میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے، جس کی لکھی کتابیں بریلوی مدارس میں بطورِ نصاب شامل ہیں، ایسا شخص جب میدان میں اترا ہے تو چوٹ کھا کر اترا ہے، اس لیے ان کے سیاست میں آنے کے اعلان کے صرف 6 ماہ بعد لاہور این اے 120 میں الیکشن شروع ہوئے، یہ وہاں کود گئے، نہ تجربہ، نہ میڈیا کا ساتھ، نہ کوئی الائنس، تن تنہاء مقابلے میں آئے، شاید یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہار جائیں گے، لیکن ان کا مقصد کم از کم بریلوی مکتب فکر کا ووٹ بینک بچانا اور اپنی جانب راغب کرنا ہے، اگر اس الیکشن میں اس نومولود جماعت نے 10 ہزار ووٹ بھی لے لئے تو یہ ان کیلئے یہ حلقہ جیتنے جتنی حیثیت رکھیں گے، اور آثار یوں دکھائی دے رہے ہیں کپ جس تیزی کے ساتھ پنجاب کو بابا خادم رضوی کور کررہے ہیں، ان کی افرادی قوت جماعتِ اسلامی، ملی مسلم لیگ، جمیعت علمائے اسلام اور اہلسنت والجماعت جیسی مذہبی و سیاسی تنظیموں کے مقابلے میں زیادہ ہے، ان کے جلسوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے،
خادم حسین رضوی اہل سنت وجماعت میں چھانٹی کرکے ایک مکمل واضح سوچ کے حامل افرادی قوت تیار کررہا ہے، جس میں ادھر ادھر کی کوئی رعایت نہیں، مستقبل کا تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کیا ہوگا ، کیونکہ ماضی کے شاہ احمد نورانیؒ جیسے عظیم شخص کی تنظیم جمیعت علمائے پاکستان جس انداز سے ن لیگ کے حق میں بیٹھ گئی ہے، اسے دیکھا جائے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ خادم رضوی کے بعد ان کا جانشین اس پائے کی استقامت اور خودداری پا سکے گا یا نہیں، لیکن کب تک خادم حسین رضوی زندہ ہے، سودا گری نہیں کرسکتا، کیونکہ یہ اس نظام سے نئی نئی ذہنی بغاوت لئے ہوئے ہیں، اس لئے میں اگر خادم حسین رضوی کی مختصر تعریف کروں تو وہ بریلوی مکتب فکر کا حق ہے،
کل ملا کر خادم حسین رضوی کا قصور اور جرم یہ ہے کہ وہ ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں بغیر لپٹی لفاظی کے سچ اور حق بولنے کا عادی ہوچکا ہے، اس کی زبان کو حق گوئی کی عادت ہی نہیں بلکہ جنون ہوچکا ہے، اس لئے عشق جب جنون میں بدلتا ہے، وہاں سے واپسی ناممکن ہوتی ہے،
:::::
☆ قاصد نامہ ☆ :::::: خادم حسین رضوی کی "گالیاں" اور سیاست ::::::
علامہ خادم حسین رضوی کا سیاست میں آنا نہ تو روایتی ہے، نہ ہی پری پلانڈ ہے، بلکہ ان کا سیاست میں آنا بالکل ایسا ہی ہے، جیسے سپاہِ صحابہ ایرانی انقلاب کو پاکستان میں برآمد کرنے کی کوششوں کے ردِعمل میں بنی، ہمارے بہت سے دوستوں کو خادم حسین رضوی سے ایک شکایت سب سے زیادہ ہے کہ وہ "گالیاں" دیتا ہے، اب ان "گالیوں" کی حقیقت دیکھیں تو کل ملا کر ایک ویڈیو ہے، جس میں خادم رضوی صاحب طاہرالقادری کو "کمینہ، دلّا ، پادری، رذیل اور ذلیل" کہتے ہیں، اس کے علاوہ خادم رضوی کی زبان سے نہ کبھی ماں بہن کی گالی نکلی ہے، نہ کوئی ایسا لفظ کہ جسے حقیقی معنوں میں گالی کہا جاسکے، کیونکہ خبیث، رذیل، ذلیل، کمینہ، وغیرہ وہ الفاظ ہیں جو پاکستانی معاشرے میں بلکہ گھروں میں بھی عام ہیں، دوسری بات یہ کہ خاکم بدہن اس بات میں جھوٹ نہیں کہ عصری اور دینی تعلیمی اداروں میں بھی ان الفاظ کے استعمال کا معمول عام ہے، یہ میڈیا پہ بیٹھ کر جتنے دانشور زبان درازیاں کرتے ہیں، سیاستدان جیسی گھٹیا گفتگو کرتے ہیں، ویسے گفتگو کوقادر کر دکھائے کہ خادم رضوی نے یہ گفتگو کی، بھائیو ! طاہرالقادری کیلئے بھی ان الفاظ کا استعمال تب کیا گیا، جب خادم صاحب اور پیروکار ممتاز قادریؒ کا تازہ تازہ زخم کھائے ہوئے تھے، اوپر سے طاہرالقادری صاحب نے ممتاز قادریؒ کی پھانسی کو درست، آئینی اور خوش آئند قرار دیا، جس کے بعد اتنا تو کہنا بنتا تھا کہ جو کمی کمینہ زندگی بھر حضورﷺ کے نام کا ٹکڑا کھاتا رہا، وہ کینیڈا کی شہریت پانے کے بعد حضورﷺ کی عزت پہ پہرہ دینے والے کو قاتل اور مجرم کہتا ہو، باقی لفظ "دلّا" دراصل "دلال" ہے، دلال کو اگر "مہذب" انداز میں کہیں تو ایجنٹ ہوگا، اب طاہرالقادری کو کس پاکستانی نے ایجنٹ، پادری، اور جعلی ملا اور نہ جانے کیا کیا خطابات نہیں دئیے۔۔۔۔؟؟
اب خادم رضوی کی سیاست میں انٹری پر بہت سے دوستوں کو جب کوئی بات نہ ملی تو یہی ٹھٹھہ اڑاتے ہیں کہ گالیاں دیتا ہے، جناب ! جنہوں نے گالی گالی کی رٹ لگا رکھی ہے، ان میں سے اکثریت کا اخلاقی معیار دیکھا جائے تو کانوں کو ہاتھ لگائے جائیں، میں اس پر ایک کھلا اور واضح سا تبصرہ کرچکا تھا فیض اللہ خان کی پوسٹ پر، لیکن یہاں چونکہ لکھنا مناسب نہیں سمجھتا، مختصر یہ کہ کچھ ایسے بھی دانشور فیس بک پر پائے جاتے ہیں، جن سے ان کی بیویاں تنگ ہیں کہ ان کی اخلاقیات کا معیار بیوی کے سامنے بھی نہایت گھٹیا ہے، وہ بھی مزے لے لے کر خادم رضوی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "گالیاں دینے والا مولوی ہے" ، صاحب ! پہلے بیوی کے سامنے تو عزت بنا لو ! گرمی اور سردی میں استنجاء کا مسنون طریقہ بھی جسے معلوم نہ ہو، وہ اٹھ کر کہے کہ خادم رضوی ایسا ویسا۔۔۔۔
دوستو ! اختلاف کریں، ڈٹ کر کریں، لیکن اخلاق اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر، اختلاف کریں مگر دلیل کے ساتھ، لیکن اگر آپ کو لگتا ہے کہ خادم رضوی کا مذاق اڑا کر آپ اس کی عوامی مقبولیت کم کریں گے تو یہ ممکن نہیں ہے، میں ایک حقیقت پسند شخص ہوں، واللہ مجھے اس شخص سے صرف اسی لئے محبت ہے کہ حقیقت کہتا ہے اور بے خوف و خطر ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے، دونوں ٹانگوں سے معذور اس سفید ریش کے سامنے کم سن بیٹے کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا، بیٹیوں پر بندوقیں تانیں، اور باپردہ بیٹیوں کو دھمکیاں دیں، جن بیٹیوں کو اس معذور بابے نے عمر بھر سکول تک نہ بھیجا، گھر میں پڑھایا، یہ خادم رضوی بریلوی مکتب فکر میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے، جس کی لکھی کتابیں بریلوی مدارس میں بطورِ نصاب شامل ہیں، ایسا شخص جب میدان میں اترا ہے تو چوٹ کھا کر اترا ہے، اس لیے ان کے سیاست میں آنے کے اعلان کے صرف 6 ماہ بعد لاہور این اے 120 میں الیکشن شروع ہوئے، یہ وہاں کود گئے، نہ تجربہ، نہ میڈیا کا ساتھ، نہ کوئی الائنس، تن تنہاء مقابلے میں آئے، شاید یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہار جائیں گے، لیکن ان کا مقصد کم از کم بریلوی مکتب فکر کا ووٹ بینک بچانا اور اپنی جانب راغب کرنا ہے، اگر اس الیکشن میں اس نومولود جماعت نے 10 ہزار ووٹ بھی لے لئے تو یہ ان کیلئے یہ حلقہ جیتنے جتنی حیثیت رکھیں گے، اور آثار یوں دکھائی دے رہے ہیں کپ جس تیزی کے ساتھ پنجاب کو بابا خادم رضوی کور کررہے ہیں، ان کی افرادی قوت جماعتِ اسلامی، ملی مسلم لیگ، جمیعت علمائے اسلام اور اہلسنت والجماعت جیسی مذہبی و سیاسی تنظیموں کے مقابلے میں زیادہ ہے، ان کے جلسوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے،
خادم حسین رضوی اہل سنت وجماعت میں چھانٹی کرکے ایک مکمل واضح سوچ کے حامل افرادی قوت تیار کررہا ہے، جس میں ادھر ادھر کی کوئی رعایت نہیں، مستقبل کا تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کیا ہوگا ، کیونکہ ماضی کے شاہ احمد نورانیؒ جیسے عظیم شخص کی تنظیم جمیعت علمائے پاکستان جس انداز سے ن لیگ کے حق میں بیٹھ گئی ہے، اسے دیکھا جائے تو کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ خادم رضوی کے بعد ان کا جانشین اس پائے کی استقامت اور خودداری پا سکے گا یا نہیں، لیکن کب تک خادم حسین رضوی زندہ ہے، سودا گری نہیں کرسکتا، کیونکہ یہ اس نظام سے نئی نئی ذہنی بغاوت لئے ہوئے ہیں، اس لئے میں اگر خادم حسین رضوی کی مختصر تعریف کروں تو وہ بریلوی مکتب فکر کا حق ہے،
کل ملا کر خادم حسین رضوی کا قصور اور جرم یہ ہے کہ وہ ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں بغیر لپٹی لفاظی کے سچ اور حق بولنے کا عادی ہوچکا ہے، اس کی زبان کو حق گوئی کی عادت ہی نہیں بلکہ جنون ہوچکا ہے، اس لئے عشق جب جنون میں بدلتا ہے، وہاں سے واپسی ناممکن ہوتی ہے،

Comments
Post a Comment