صنف نازک پر تشدد
تشددکی ویسےتو کئ اقسام ھیں لیکن آج جس تشدد بارے میں اظہار خیال کرنے لگی ھوں وہ صرف صنف نازک تک محدود ہے۔پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہےجو کافی حدتک تو عورتوں کو ان کے حقوق دلانے اور اس فرسودہ نظام کے قائم کردہ تشدد سے چھٹکارا پا نے میں کافی حد تک کامیاب تو ہوا ہے۔ لیکن جو آزادی اور مقام اسلام نے عورت کو دیا ہے اس کو حاصل کرنے میں شائد ہمیں ابھی اور کئ صدیاں طے کرنا پڑیں گی۔ تشددصرف جسمانی طور پر ایذاء پہنچانے کا ہی نام نہیں ہے بلکہ ذہنی تشدد بھی کسی اذیت سے کم نہیں۔ جسمانی تشدد زدہ شخص تو شائد اپنی زندگی دوبارہ احسن طریقے سے مرتب کر سکتا ہے لیکن ذہنی تشدد زدہ شخص کے لئے ایک نئے سرےسے زندگی کو ترتیب دینا بہتہی مشکل ہے۔ اور اسی تشدد کے زیر اثر بہت سے لوگ خودکشی کرنے
پرمجبور ہو جاتے ہیں۔جن میں خوا تین بھی سر فہرست ہیں۔ نجانے وہ مسیحا کب آئے گا جس کے آنے سے تشدد جیسے واقعات میں کمی ہو گی اور بلآخر لوگ اس خوف زدہ کرنے والے لفظ سے بھی نا واقف ہو جا ئیں گے۔ انسان کو حیوان ناطق تو ضرور کہا گیا ہے ۔ لیکن انسان حیوان کا روپ تب دھار لیتا ہے جب اپنے نفس پر قابو پانا اسکے لئے ناممکن ہو جاۓ۔ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے میڈیا کی سرخیوں کو دیکھنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"پانچ سالہ بچی کہ ساتھ زیادتی کا واقعہ"
"بیٹا نہ ہو نے کی وجہ سے شو ہر نے بیوی کو طلاق دےدی"
"غیرت کے نام پر باپ نے بیٹی کو کر دیا قتل"
یہ وہ شہ سرخیاں ہیں جنہیں انسانی عقل تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔ عورتوں کے بارے میں اسلام کہ قائم کردہ حقوق کہیں گم سے ہو کر رہ گئے ہیں۔ہمیں خود کا اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہم خود بدلیں گے تو بدلے گا پاکستان۔
حکومت پاکستان کو بھی چاہئے کہ ایسے اصول متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ ان کو نافذ کروانے کابھی بند و بست کرے جس سے ہر عورت خود کو محفوظ اور مضبوط تصور
کرے۔



Buhat khob
ReplyDelete